Share this link via
Personality Websites!
دوسرے کے ساتھ مَس کیا، ان پر اسی وقت قہر برسا اور ان کے جسم اسی جگہ سے آپس میں مِل گئے، اب انہیں لوگوں سے حیا آئی، یہ دونوں ڈر کر وہاں سے بھاگے، راستے میں ایک بوڑھے آدمی سے ان کی مُلاقات ہوئی، اس بوڑھے کو جب ان کی گندی حرکت کا پتا چلا تو اس نے کہا: جہاں سے بھاگے ہو، وہیں واپس جاؤ! سچّے دِل سے توبہ کرو! تمہیں اس عذاب سے نجات مل جائے گی۔ چنانچہ وہ دونوں واپس کعبہ شریف کے پاس آئے، سچّے دِل سے توبہ کی اور پکّا عہد کیا کہ آیندہ کبھی ایسی گندی حرکت نہیں کریں گے، ان کی توبہ قبول ہوئی اور اللہ پاک نے انہیں عذاب سے نجات عطا فرما دی (یعنی دونوں کے جسم جُدا جُدا ہو گئے)۔([1])
اے عاشقانِ رسول! دیکھا آپ نے کعبہ شریف کے قُرْب میں گُنَاہ کرنا کس قدر ہلاکت خیز ہے۔ اس لیے گُنَاہوں سے تو ہر جگہ ہی بچنا لازمی ہے، البتہ حج کا شرف مِلے، عمرے کی سَعَادت ملے، حرمِ پاک کی حاضِری ہو تو وہاں گُنَاہوں سے بچنا زیادہ ضروری ہے *وہاں بھی لوگوں کی نمازیں قضا ہو رہی ہوتی ہیں *بدنگاہی ہو سکتی ہے *گالی گلوچ *غیبت وغیرہ گُنَاہ ہو سکتے ہیں، ان سے لازمی بچیے!
شرف مجھ کو ہر سال حج کا خُدا دے مدینہ بھی ہر بار مولیٰ دکھا دے
شرف دیدِ کعبہ کا دیدے اِلٰہی! مجھے سبز گنبد کا جلوہ دکھا دے
عِبَادت میں لگ جائے دِل یااِلٰہی! مِرے دِل سے غفلت کا پردہ ہٹا دے
سِیَہ ہے مِرا سارا اَعْمال نامہ اِلٰہی! سیاہی تو اس کی مٹا دے([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami