Share this link via
Personality Websites!
سَفَر کی برکتیں دوبالا کرنے والی ہیں۔ یہ کیسے آئیں گی؟ جب دِل میں تقویٰ ہو گا۔ اور ایسا نہیں ہے کہ جب ہم جہاز میں بیٹھیں گے تو تقویٰ ہماری جھولی میں ڈال دیا جائے گا، نہیں...!! یہ تقویٰ ہمیں ساتھ لے کر جانا ہے، اپنے گھر میں تقویٰ اختیار کرنا ہے، عام زندگی میں تقویٰ اِختیار کرنا ہے، گُنَاہوں سے بچنا ہے، نیکیاں کرنی ہیں، اِس کی برکت سے دِل میں رِقَّت آئے گی، سینہ محبّتِ اِلٰہی کا خزینہ بن جائے گا، پِھر اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِری کا لطف ہی نِرالا ہو گا۔
اِس لیے حجّ و عمرہ کی تیاری کر رہے ہوں تو زادِ راہ میں تقویٰ کو بھی لازمی شامِل کرنا چاہیے کہ یہ بہترین زادِ سَفَر ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھیے! گُنَاہ ہر جگہ گُنَاہ ہی ہے، البتہ خصوصاً حرمِ پاک میں گُنَاہ کا کام کرنا صِرْف گُنَاہ ہی نہیں، حرم شریف کی بےادبی بھی ہے، اس لیے حرمِ پاک میں جا کر گُنَاہوں سے خصُوصاً بچنا لازمی ہے (1):زمانۂ جاہلیت کی بات ہے، ایک شخص جس کا نام اِسَاف تھا، اس نے اور نائِلَہ نامی ایک خاتون نے عین کعبہ شریف کے اندر بدکاری کی، آہ! ان بدبختوں کو کعبہ شریف کی حُرمت کا بھی اِحْساس نہ ہوا، مسلمانوں کی امی جان، سیدہ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ان دونوں نے کعبہ شریف کی ایسی بےادبی کی تو ان پر اللہ پاک کا غضب برسا اور یہ دونوں اسی وقت پتھر کے بن گئے۔([1]) (2):زمانۂ جاہلیت ہی کا واقعہ ہے: ایک عورت اور ایک مرد طواف کر رہے تھے، انہوں نے گندی نِیّت سے اپنا جسم ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami