Share this link via
Personality Websites!
عرض کی گئی: حَجِّ مَبْرُور کیا ہے؟ فرمایا:
اِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَاِفْشَاءُ السَّلَامِ
ترجمہ: یعنی وہ حج جس میں کھانا کھلانا اور سلام کو عام کرنا ہو۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پتا چلا؛ *سَفَرِ حج و عمرہ میں دوسروں کو کھلانے پلانے کا ذِہن رکھنا چاہیے، لہٰذا اَپنی ضرورت سے کچھ زیادہ انتظام رکھیے! تاکہ دوسروں کو کھلا پلا سکیں *اسی طرح سَفَرِ حج میں سلام کی نیکیاں کمانا بھی بہت آسان ہے، لاکھوں لوگ موجود ہوں گے، آپ مکہ مدینہ میں جہاں بھی جائیں گے، وہاں آپ کو لوگ ہی لوگ نظر آئیں گے، لہٰذا سب کو سلام کرتے رہیے، ثواب کماتے رہیے!
حضرت عبد اللہ بن سلام رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی مُبارَک زبان سے سب سے پہلا جو کلام سُنا وہ یہ تھا: یَا اَیُّہَا النَّاسُ! اے لوگو! اَفْشُوا السَّلَامَ سلام کو عام کرو!وَ اَطْعِمُوا الطَّعَامَ کھانا کھلاؤ! وَ صَلُّوْا بِالَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ اور رات كو جس وقت لوگ سو رہے ہوں، اس وقت نماز پڑھو تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِسَلَامٍ (یہ 3 کام کرو گے تو )سلامتی کے ساتھ جنّت میں داخِل ہو جاؤ گے۔([2])
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami