Share this link via
Personality Websites!
بنیں، مُفْت خوری کی طرف نہ جائیں بلکہ سَفَرِ حجّ میں تو یہ مُسْتَحب ہے کہ ہم ضرورت سے کچھ زیادہ اَخْراجات اپنے ساتھ رکھیں تاکہ دُوسروں پر خرچ کر سکیں۔ لہٰذا ہمیں عام حالات میں بھی اور سَفَرِ حجّ و سَفَرِ عمرہ میں بھی ہمیشہ ناحق سُوال سے بچتے رہنا چاہیے۔
ناحق سُوال کا مطلب: بندے کی ایسی حالت نہیں ہے کہ شریعت اُسے مانگنے کی اِجازت دے، اس کے باوُجُود وہ سُوال کرتا ہے، دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، مُفْت خوری دِکھاتا ہے، اسے ناحق سُوال کہیں گے۔ حدیثِ پاک میں ہے: جو شخص بغیر حاجت سُوال کرتا ہے ، گویا وہ انگارا کھاتا ہے ۔([1])ایک حدیث شریف میں ہے: جو شخص لوگوں سے سُوال کرے، اِس لیے کہ اپنے مال کو بڑھائے تو وہ جہنّم کا گرم پتّھر ہے، اب اُسے اِختیار ہے، چاہے تھوڑا مانگے یا زِیادہ ۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! عام حالات میں بھی سَفَر پر نکلنا ہو تو اپنی ضرورت سے کچھ زیادہ رقم وغیرہ ساتھ رکھ لینی چاہیے، کہیں بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے، سَفَر میں صدقہ کرنا بھی زیادہ مفید ہے، بالخصوص سَفَرِ حج ہو یا سَفَرِ عمرہ ہو، اس میں تو کھلانے پِلانے کا ذِہن ہونا چاہیے۔ حدیثِ پاک میں ہے، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ اِلَّا الْجَنَّةَ
ترجمہ: حجِ مَبْرُور (مقبول حج) کی جزاء صِرْف و صِرْف جنّت ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami