Share this link via
Personality Websites!
حجّ کے مزید آداب کیا ہیں؟ اللہ پاک نے فرمایا:
وَ تَزَوَّدُوْا (پارہ:2، سورۂ بقرہ:197)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اورزادِ راہ ساتھ لے لو ۔
روایات میں ہے: بعض لوگ سَفَر کا ضروری سامان اور اَخْراجات وغیرہ کا انتظام کیے بغیر حجّ پر چلے جاتے تھے اور کہتے تھے: ہم اللہ پاک پر تَوَکُّل کرتے ہیں۔ جب مکّہ پاک پہنچتے ، اب ظاہِر ہے کھانے پینے کی ضرورت پیش آتی تو لوگوں سے مانگنا شروع کر دیتے تھے، ان کے بارے میں یہ آیت نازِل ہوئی([1]) اور فرمایا دیا گیا کہ اے لوگو...!! اپنا سامانِ سَفَر اور ضروری اَخْراجات ساتھ لے کر حجّ کے لیے جایا کرو! لوگوں کے سامنے ہاتھ مت پھیلاؤ! کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا، دوسروں پر بوجھ بننا تَوَکُّل نہیں بلکہ خِلافِ تَوَکُّل ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہاں سے ہمیں سبق مِلا کہ اسلام ہمیں خُود دارِی سکھاتا ہے، حجّ جیسی اَہَم تَرِیْن عِبَادت ہے *کعبہ شریف کی زِیارت *وقوفِ عرفات *وقوفِ مُزْدَلِفہ ایسی ایسی سَعَادت کی باتیں، اِتنے عظیم کام، بخشش و مغفرت دِلانے والے نیک اَعْمال...!! یہ کام کرنے ہوں، اِس کے لیے بھی ہاتھ پھیلانے کی اِجازت نہیں ہے بلکہ حکم ہے کہ خود محنت کرو! مال کماؤ! اور سَفَر کے ضروری اَخْراجات ساتھ لے کر پِھر حجّ کے لیے جاؤ! دوسروں پر ہر گز بوجھ بننے کی اِجازت نہیں ہے۔ اِس سے پتا چلتا ہے کہ اِسلام ہاتھ پھیلانے اور ناحق سُوال کرنے کو کتنا بُرا سمجھتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم محنتی بنیں، بھکاری ہر گز نہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami