Share this link via
Personality Websites!
زبان تک سے واقِف نہیں ہوتے *ایک کو عربی آتی ہے، اُردو نہیں آتی *دوسرے کو اُردو آتی ہے، عربی نہیں آتی *ایک کو فارسی آتی ہے، انگلش نہیں آتی *دوسرے کو انگلش آتی ہے، فارسی نہیں آتی، زبانیں مختلف ہیں، ایک دوسرے سے بات نہیں کر پاتے مگر اُلْفت و محبّت اور ہمدردی کا جذبہ ایسا کمال کا ہوتا ہے کہ کسی کے چہرے پر پریشانی دیکھ لیں سہی...!! *اِشاروں سے پوچھیں گے کہ بھائی! کیا پریشانی ہے؟ *پِھر پریشانی حل بھی کرتے ہیں *کوئی بیچارے بزرگ ہوں، راستہ بُھول گئے ہوں، اُن کا ہاتھ پکڑ کر کئی کئی کلومیٹر دُور جا کر ہوٹل تک پہنچا کر آتے ہیں *جان پہچان نہیں ہوتی، پِھر بھی سامان کی حفاظت کرنے بیٹھ جاتےہیں، غرض؛ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا سلسلہ چل رہا ہوتا ہے، اس سے بھی زیادہ مزے کی بات یہ ہے کہ ایک تو مدد کر دیتے ہیں، پِھر سامنے والا شکریہ بولے، اس سے پہلے یہ مدد کرنے والے شکریہ بولتے ہیں کہ بھائی! آپ کا شکریہ کہ آپ نے میری مدد قبول کر لی۔ مولانا حسن رضا خان صاحِب رحمۃُ اللہ علیہ کا شعر ہے نا؛
آتا ہے فقیروں پہ انہیں پیار کچھ ایسا خود بھیک دیں، خود کہیں: منگتا کا بھلا ہو([1])
اس شانِ مصطفےٰ کا فیضان مسلمانوں کو نصیب ہوتا ہے اور اس کا پُورا پُورا اظہار مکّہ مدینہ میں ہو رہا ہوتا ہے۔
کاش! یہ والی سعادت ہمیں سَفَرِ حج و عمرہ میں بھی نصیب رہے اور اپنے گھروں میں بھی نصیب ہو جائے *اپنے پڑوسیوں کے ساتھ *اپنے دوستوں کے ساتھ *جاننے والے اور انجان ہر ایک عاشقِ رسول کے ساتھ ہم اسی طرح ہمدردی کرنے والے *ایک دوسرے کے کام آنے والے *ایک دوسرے کے ساتھ اِتفاق و اِتحاد کے ساتھ رہنے والے بن جائیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami