Share this link via
Personality Websites!
قتل کریں گے اور قیدی بنائیں گے۔ ([1])
یہ سبق سیکھنے کی بات ہے، اس اُمّت کے ساتھ یہ وعدہ ہو چکا ہے کہ *اِس اُمّت کو قحط کے ذریعے ہلاک نہیں کیا جائے گا *کبھی کچھ عرصے کے لیے بارشیں رُک جانا *جُزْوِی طَور پر خوراک کی قِلّت ہو جانا، یہ الگ بات ہے، ایسا قحط نہیں آئے گا کہ پُوری اُمّت ہی ہلاک ہو جائے *یونہی دُشمن کو بھی اِس اُمّت پر مُسَلّط نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ایسا نہیں ہو گا کہ دُشْمن حملہ کریں اور ساری اُمّت کو ہی ہلاک کر ڈالیں۔ ہاں! مسلمان خُود ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑیں گے *بھائی بھائی کا گریبان پکڑے گا *ایک کعبے کی طرف سجدہ کرنے والے، ایک قرآن کو اپنا امام بنانے والے، ایک نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا کلمہ پڑھنے والے؛کبھی برادری کو بنیاد بنا کر جھگڑتے ہیں *کبھی سندھی *پنجابی *پختون، مہاجر، بلوچ بن کر آپس میں لڑتے ہیں *کبھی لڑائیوں کی بنیاد پیسہ بنتا ہے *جائیداد کے جھگڑے ہو جاتے ہیں *وراثت کو لے کر قتل تک باتیں پہنچتی ہیں *کبھی محض ذاتی اَنَا اور تکبُّر لڑائیوں پر اُبھارتا ہے اور کئی کئی قتل ہو جاتے ہیں۔ یہ لڑائیاں، یہ جھگڑے ہمارا سب سے بڑا دُشمن ہے، اِس کی نحوست سے مسلمان کمزور ہوتے ہیں، خاندان ٹوٹتے ہیں، آپس میں پُھوٹ پڑتی ہے، قوم و مِلّت کے اندر کمزوری آتی ہے اور نتیجۃً دُشمن کو موقع مِل جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم آپس میں ہمیشہ اِتفاق و اِتحاد کے ساتھ رہیں۔
اَلحمدُ لِلّٰہ! حجّ کا موقع ہو یا عمرہ کا، مسلمانوں کی آپس میں محبّت، ہمدردی، خلوص، اتفاق و اِتحاد نظر آتا ہے، دُنیا بھر سے مسلمان مکّہ مدینہ میں حاضِر ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami