Share this link via
Personality Websites!
بولتے رہنا ہے۔ میں تَو مشورہ دُوں گا کہ سَفَرِ حج پر جانے سے پہلے اپنی زبان پر 2لفظ پکّے کر لیجیے! (1):شُکْرًا (2):جَزَاکَ اللہ خَیْرا۔ بس موقع کی مناسبت سے سب کو یہی بولتے رہیے۔
میں آپ کو ایک پتے کی بات عرض کروں؟ مسلمانوں کا سب سے جو بڑا دُشمن ہے، جو مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والا ہے، وہ آپس کے لڑائی جھگڑے ہیں۔ میں آپ کو حدیثِ پاک سُناتا ہوں، بڑی خوبصُورت حدیثِ پاک ہے، اس کو ذرا سمجھیے گا۔ مُسْلِم شریف جو حدیثِ پاک کی بہت معتبر کتاب ہے، اس میں روایت ہے؛
محبوبِ ذیشان، مکی مَدَنِی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: زَوٰی لِیَ الْاَرْضَ میرے لیے زمین سمیٹ دی گئی فَرَاَیْتُ مَشَارِقَہَا وَ مَغَارِبَہَا پس میں نے زمین کے مشرق و مغرب دیکھ لیے ۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شان ہے میرے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی...!! بیٹھے مدینے شریف میں ہیں، دیکھ ساری زمین رہے ہیں۔ یہی تو ہمارا حاضِر و ناظِر کا عقیدہ ہے۔اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا تھا:
شش جَہت سمتِ مقابِل روز و شب ایک ہی حال
دُھوم وَالنَّجْم میں ہے آپ کی بینائی کی([2])
وضاحت: سمتِ مقابِل: یعنی سامنے کی طرف۔ یہ ہم جیسے عام لوگ ہیں، ہمیں صِرْف وہی چیز نظر آتی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو مگر نگاہِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا یہ کمال ہے کہ آپ اُوپر، نیچے، دائیں، بائیں، آگے پیچھے ہر طرف دیکھتے ہیں، 6 کی 6 سَمْتیں(یعنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami