Share this link via
Personality Websites!
صحابہ! تم صِرْف اِیْمان کی بات کرتے ہو) وَ یَصُوْمُوْنَ وَ یُصَلُّوْنَ وَ یَحُجُّوْنَ * وہ روزے بھی رکھتے ہوں گے* نمازیں بھی پڑھتے ہوں گے* حج بھی ادا کرتے ہوں گے۔
وضاحت: اب تَو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کی حیرت اور بڑھ گئی۔ پچھلی اُمّتوں پر جو عذابات آئے، اُن کا بڑا جُرْم تَو یہی تھا کہ وہ کلمہ نہیں پڑھتے تھے *قومِ نُوح نے کلمہ نہیں پڑھا تو عذاب آیا *قومِ لُوط کے اور بھی جُرْم تھے مگر کلمہ نہ پڑھا تو عذاب آیا *قومِ عاد و ثمود نے کلمہ نہ پڑھا تو عذاب آیا، یہاں تو کلمہ پڑھنے والے، اِیْمان والے، روزے رکھنے والے، نمازیں پڑھنے والے، حج کرنے والے...!! ان پر عذاب آجائے گا، انہیں بندر اور خِنْزِیْر بنا دیا جائے گا...؟
عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! ان کا جُرْم کیا ہو گا...؟
فرمایا: یہ لوگ موسیقی کے آلات رکھیں گے، گانے والیاں رکھیں گے (گانے باجے سُنا کریں گے) ساری رات شرابیں پیتے، کھیل کُود میں مصروف رہیں گے، صبح اُٹھیں گے تو بندر اور خِنْزِیْر بن چکے ہوں گے۔ ([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! کس قدر عبرت کی بات ہے...!! یعنی ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم دیکھ رہے تھے کہ میری اُمّت پر ایک ایسابھی وقت آئے گا، جب بظاہِر نیک نمازی، مسجدوں میں آنے والے، روزے رکھنے والے، حج و عمرہ کے لئے تڑپنے والے، بظاہِر مذہبی لوگ بھی گانے باجوں کی نحوست میں گرفتار ہو جائیں گے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami