Share this link via
Personality Websites!
ہو؟ خوش گپیوں ہی میں لگے رہتے ہو...؟ گانے سنتے رہتے ہو...؟
ایک عبرتناک حدیثِ پاک سنیے! حضرت اَبُوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سُلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: آخری زمانہ میں اس اُمّت کے بعض لوگوں کو بندر و خِنْزِیْر بنا دیا جائے گا۔
وضاحت: اللہ اکبر! ہم لوگ خُوش فہمی کا شِکار رہتے ہیں کہ چونکہ ہم رحمتِ دوجہاں صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی اُمّت ہیں، لہٰذا ہم پر عذاب نہیں آئے گا۔ بات واقعی سچی ہے، اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے:
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ- (پارہ:9، سورۂ انفال:33)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب!تم ان میں تشریف فرما ہو۔
مگر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اس اُمّت پر عذابِ اِسْتِیصَال نہیں آئے گا یعنی ساری کی ساری اُمّت ہی کو ہلاک کر دیا جائے، ایسا نہیں ہو گا۔ البتہ! ایک گھر پر تو عذاب آ سکتا ہے، ایک محلے پر تَو عذاب آ سکتا ہے۔ ایک قبیلے پر تو عذاب آ سکتا ہے۔
چنانچہ پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: آخری زمانہ میں اس اُمّت کے بعض لوگوں کو بندر و خنزیر بنا دیا جائے گا۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم نے حیرت سے پوچھا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کیا وہ لوگ اِیْمان نہیں رکھتے ہوں گے؟ کلمہ نہیں پڑھتے ہوں گے؟
اب آگے جو عبرتناک الفاظ ہیں، وہ توجہ سے سنیے! فرمایا: بَلٰی کیوں نہیں (اے میرے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami