Share this link via
Personality Websites!
کی غُلامی پر ناز کرتے ہیں، اُن آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی حدیثِ پاک سنیے! فرمایا:بُعِثْتُ بِهَدْمِ الْمِزْمَارِ، وَالطَّبْلِ یعنی مجھے موسیقی کے آلات توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! اندازہ لگائیے! آج مسلمان آمدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے مقصَد سے کتنا اُلٹ چل رہے ہیں، محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم آلاتِ موسیقی توڑنے کے لیے تشریف لائے اور مسلمان موسیقی سُننے کے آلات پر لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔
جو دِین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے
روتے نہیں ہو، گانے سنتے ہو...!!
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ(۶۰) وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ(۶۱) (پارہ:27، سورۂ نجم:60-61)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور ہنستے ہو اور روتے نہیں ہواور تم غفلت میں پڑے ہوئے ہو۔
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما اس آیتِ کریمہ میں لفظِ سٰمِدُوْن (یعنی غفلت میں پڑنے) کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس سے مراد گَانے ہیں۔ ([2]) یعنی یہ فرمایا جا رہا ہے: اے لوگو...!! تمہیں کیا ہوا...؟ تم روتے نہیں ہو، ہنستے اور گانے گانے (اور سننے ) میں مصروف رہتے ہو...!!
اللہ! اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہمیں جھنجھوڑا جا رہا ہے...!! اے لوگو!! عبرت کیوں نہیں پکڑتے...! اپنے گُنَاہوں کو یاد کر کے روتے کیوں نہیں ہو؟ بَس ہنستے ہی رہتے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami