Share this link via
Personality Websites!
(Headphone)آگئے، جہاں بھی ہوں، ہیڈ فُون سَر پر لگائیں اور گانَوں کی آواز پر تھرکتے، مٹکتے چلتے چلے جائیں *یہ تَو امیروں کے کام ہیں، اب ذرا نچلے طبقے میں آجائیں، وہ لوگ جو غربت کا رونا رَوتے دِکھائی دیتے ہیں، وہاں بھی یہی حال ہے *کچھ عرصہ پہلے ایسا تھا کہ پُوری مارکیٹ میں ایک، 2یا ،4 دُکانیں سِی ڈِیز(CDs) والی، وِی سِی آر(V.C.R) والی ہوتی تھیں، اب تَو جگہ جگہ بیٹھے ہوتے ہیں، ایک چھوٹا سا ٹیبل رکھا ہوا ہے، اُوپَر کمپیوٹر(Computer) ہے اور اشتہار لگایا ہوا ہے: میموری کارڈ فُل کروائیں، موبائِل میں گانیں، فلمیں ہم سے بھروائیں۔* اس سے بھی آگے بڑھیے تَو خُود اپنے پاس موبائِل رکھا ہوا ہے، انٹرنیٹ کا پیکج موجود ہے، سوشل میڈیا پر لگے ہوئے ہیں، رِیْلز(Reels) دیکھ رہے ہیں، موسیقی سے بھرپُور، گُنَاہوں پر مشتمل ویڈیو کلپ دیکھے جا رہے ہیں* اَور تَو کیا عرض کروں؛ گدھا گاڑیوں پر بھی گانے چل رہے ہوتے ہیں۔ غرض کہ گانے باجے، میوزک، موسیقی ہمارے معاشرے میں اتنی عام ہو چکی ہے، اتنی عام ہو چکی ہے کہ شاید کسی گلی، کسی محلے، بازار سے موسیقی کی آواز سُنے بغیر گزر جانا ممکن نہیں رہا۔ شاید ہی ایسا ہو کہ ہم کہیں سے گزرے ہیں اور کانَوں میں میوزک(Music) کی آواز نہیں آئی۔ اگر مُسْلِم سَوسائٹی (Muslim Society) کے صِرْف گانَوں باجَوں پر خرچ ہونے والے ماہانہ اَخْراجات کا حساب لگایا جائے تو شاید بات کروڑوں اَرْبَوں تک پہنچ جائے گی۔آہ...! افسوس!
اے خاصۂ خاصانِ رُسُل وقتِ دُعا اُمّت پہ تیرے آ کے عجب وقت پڑا ہے
آلاتِ موسیقی توڑنے کی ذِمَّہ داری
پیارے اسلامی بھائیو! ہم جن کی غُلامی کا دَم بھرتے ہیں، جن آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami