Share this link via
Personality Websites!
کرنا چاہا تھا، صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کی مذَمَّت میں پارہ:21، سُورۂ لُقمان کی آیت نمبر :6 نازِل ہوئی، اللہ پاک نے فرمایا: ([1])
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(۶)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور کچھ لوگ کھیل کی باتیں خریدتے ہیں تاکہ بغیر سمجھے الله کی راہ سے بہکادیں اورانہیں ہنسی مذاق بنالیں۔ان کے لیے ذِلَّت کا عذاب ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ آیتِ کریمہ کی تفسیر میں قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ یہاں لَہْوَ الْحَدِیث (یعنی کھیل کی باتوں) سے مراد گانا بجانا ہے۔ ([2]) مطلب یہ ہوا کہ نَضْر بن حارِث جیسے وہ لوگ جو اپنا پیسا کھیل کُود کی چیزوں پر خرچ کرتے ہیں، گانے باجے پر، اس کے آلات کی خریداری پر، میوزِیکل فنکشنز (Musical functions) پر لگا ڈالتے ہیں کہ اس ذریعے سے گمراہی پھیلائیں، لوگوں کو راہِ خُدا سے دُور کریں، ہدایت کو مذاق بنا ڈالیں، ایسوں کے لیے ذِلّت کا عذاب ہے۔
تُو ڈر اپنا عنایت کر، رہیں اس ڈر سے آنکھیں تر
مٹا خوفِ جہاں دل سے، مٹا دُنیا کا غم مولیٰ
تُو بس رہنا سدا راضی، نہیں ہے تابِ ناراضی
تُو ناخُوش جس سے ہو برباد ہے، تیری قسم! مولیٰ!([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami