Share this link via
Personality Websites!
سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔
پتا چلا؛ نیک لوگ کہیں سے گزریں اور وہاں لغو یا گُنَاہوں بھرے کام ہو رہے ہوں تو وہاں سے اپنی عزّت بچا کر گزر جاتے ہیں۔ لہٰذا جہاں میوزک بج رہا ہو، وہاں سے عزّت بچا کر نکل جانے کی عادَت بنائیے!
حدیثِ پاک میں ہے: لہو و لَعِب (مثلاً گانے وغیرہ) کی طرف تَوَجُّہ لگانا گُنَاہ ہے، اس کے پاس بیٹھنا فسق ہے اور اس سے لذّت اُٹھانا کفر سے ہے۔([1])
ایک تَو ہے کہ بندہ خُود گانے چلائے، یہ تَو گُنَاہ ہی گُنَاہ ہے، کہیں چل رہے تھے، ہم وہاں سے گزرے، یا کسی دُکان وغیرہ پر پہنچے، گانَوں کی آواز کان میں پڑی، اس کی جانِب تَوَجُّہ لگانا، وہاں بیٹھ جانا، گانَوں سے لذّت اُٹھانا یہ ایسا خطرناک تَرِین کام ہے کہ فرمایا: یہ کفر سے ہے (یعنی کافِروں والا عمل ہے کہ دِل سے نُورِ اِیْمان گھٹاتا اور سیاہی بڑھاتا ہے)۔
حضرت نافِع رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں (بچپن میں) حضرتِ عبدُاﷲ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہ کے ساتھ کہیں جارہا تھا کہ راستے میں بانسری بجانے کی آواز آنے لگی،حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنے کانوں میں اُنگلیاں ڈال دیں اورراستے سے دوسری طرف ہٹ گئے، دُورجانے کے بعد پُوچھا، نافِع ! آواز آرہی ہے ؟میں نے عرض کی: اب نہیں آرہی۔ یہ سُن کر آپ نے کانوں سے اُنگلیاں نکالیں اورارشاد فرمایا: ایک بار میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami