Share this link via
Personality Websites!
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
روایت ہے: مکّہ پاک میں نَضْر بِنْ حارِثْ نام کا ایک غير مسلم شخص تھا، یہ بد نصیب اِسْلام سے اِنتہائی دُشمنی رکھتا تھا۔ اس نے اِسْلام کی راہ میں رُکاوٹیں ڈالنے کے لیے طریقہ یہ اپنایا کہ خُوبصُورت آواز میں گانا گانے والی لَونڈیاں(Lady singers)خریدتا، انہیں اپنے پاس رکھتا، کھلاتا، پِلاتا اور ان کی خُوب دیکھ بھال کرتا، یُوں کہہ لیجیے کہ اس بد نصیب نے پُورا گناہوں کا اڈا کھول رکھا تھا۔ جب اسے پتا چلتا کہ فُلاں شخص اِسْلام کی طرف مائِل ہو رہا ہے، اس کا دِل اِسْلام کے لیے نَرْم ہو گیا ہے، قریب ہے کہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو جائے گا۔ ایسے لوگوں کو اپنے گناہوں کے اڈے پر لے جاتا، گانا گانے والی لونڈیوں کو کہتا: اسے کھانے کھلاؤ، شرابیں پِلاؤ اور خُوب گانے سُناؤ!
وہ لونڈیاں ایسا ہی کرتیں، پِھر یہ کلمہ پڑھنے کا اِرادہ کرنے والے سے کہتا: دیکھو! ان کاموں میں کتنی لذّت ہے، مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جس بات کی دعوت دیتے ہیں، نماز وغیرہ کا حکم دیتے ہیں، بھلا اُس میں ایسی لذّت کہاں ہے....!! اس خطرناک تَرِین حربے سے یہ لوگوں کو اِسْلام سے دُور رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ ([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami