Share this link via
Personality Websites!
چینل آیا ہی نہ کرے۔ ورنہ چینل تبدیل کرتے ہوئے میوزیکل چینل آ سکتے ہیں * اَوّل تَو بچوں کو موبائِل دینا نہیں چاہیے، دینا ہی ضروری ہو تو انہیں سوشل میڈیا چلانے مت دیجیے! اسلامی کارٹُون مثلاً * غُلام رسول کے مدنی پھول * حمزہ * کنیز فاطمہ وغیرہ لگا کر دیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! بچوں کی اچھی تربیت بھی ہو گی اور میوزک کی آفت سے بھی جان بچی رہے گی۔
موسیقی مُعَاشرے میں بہت عام ہے، حالات ایسے ہی ہیں کہ بچنے کا ذِہن رکھنے والا بھی انتہائی کوشش کرے، تبھی بچت کی کچھ راہیں نکل پائیں گی۔ لہٰذا آپ کسی طرح بھی موسیقی سے نہ بچ پا رہے ہوں تو اس کی جانِب سے تَوَجُّہ ہٹا لیجیے! مثلاً آپ بازار میں ہیں اور وہاں میوزِک بج رہا ہے، آپ رَوک بھی نہیں سکتے، وہاں سے ہٹ بھی نہیں سکتے تو اس جانِب تَوَجُّہ مت کیجیے! عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: میوزِک کی آواز کانوں میں نہ آئے، اس کی بھرپُور کوشش کرنا واجب ہے۔([1])
یہ لفظ ذِہن میں رکھیے گا: بھرپُور کوشش واجب ہے۔ خالی دِل کو منانے کے لیے دو چار قدم ہٹ جانا کافی نہیں ہے۔ جتنی کوشش آپ کے اِخْتیار میں ہو، اتنی کوشش کرنی ہو گی۔
اللہ پاک نے نیک لوگوں کا ایک وَصْف بتایا:
وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَۙ-وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا(۷۲) (پارہ:19، سورۂ فرقان:72)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سے گزرتے ہیں تواپنی عزت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami