Share this link via
Personality Websites!
گانا گانے لگی۔پھر اس شخص نے میری طرف دیکھا اور کہا: کیا تمہارے پاس اس(گانے) جیسا کچھ ہے؟ میں نے کہا: ہاں! میرے پاس وہ ہے جو اس سے کہیں زیادہ بہتر اور بھلاہے۔ اس نے کہا:سناؤ! میں نے یہ آیات تلاوت کیں:
اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْﭪ(۱) وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْﭪ(۲) وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْﭪ(۳) (پارہ:30، سورۂ تکویر: 1-3)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: جب سورج کو لپیٹ دیا جائے گا۔اور جب تارے جھڑ پڑیں گے۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔
ان آیات کو سُن کر وہ شخص رونے لگا، جب میں اللہ پاک کے اس فرمان پر پہنچا:
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ(۱۰) (پارہ:30، سورۂ تکویر: 10)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور جب نامۂ اعمال کھولے جائیں گے۔
تو وہ کہنے لگا:اے کنیز! میں تجھے اللہ پاک کی رضا کے لیے آزاد کرتا ہوں، اس شراب کو بہا دو!پھر اس نے مجھے قریب بلایا اور کہنے لگا: میرے بھائی! تم کیا کہتے ہو؟ کیا اللہ پاک میری توبہ قبول فرما لے گا؟ میں نے جواب میں یہ آیت پڑھ دی:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲) (پارہ:2، سورۃ بقرۃ: 222)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
( یہ سن کر اس نے توبہ کرلی) حضرت اَبُو ہاشِم فرماتے ہیں: اس کے بعد 40 سال تک ہم دوستوں کی طرح رہے۔ 40 سال کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ میں نے اسے خواب میں دیکھا تو پوچھا: تمہارا کیا ہوا؟ تمہا را ٹھکانہ کہا ں ہے ؟ بولا: مجھے میرے ربّ نے جنّت عطا فرما دی۔ ([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami