Share this link via
Personality Websites!
کرتے ہیں ۔
پتا چلا؛ ذِکْرُ اللہ کی طرف رغبت نہ رہنا بھی منافقت کی نشانی ہے، اس پر بھی غور کر لیجیے! ہمارے مُعَاشرے میں فلمیں دیکھنے والے کتنے ہیں اور تِلاوت کرنے والے کتنے ہیں* گانے سننے والے کتنے ہیں اور نعتیں سننے والے کتنے ہیں۔ یقیناً محفلوں میں آنے والوں، نعتیں سننے والوں، مدینے جانے والوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے مگر تقابُل کریں تو ایک بڑا فرق موجود ہے۔
* حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا: جھوٹ بولنا منافق کی نشانی ہے۔([1])دیکھ لیجیے! ہمارے معاشرے میں جھوٹ کتنا عام ہے * حدیثِ پاک میں فرمایا: امانت میں خیانت کرنا منافق کی نشانی ہے * گالی دینا منافق کی نشانی ہے * وعدہ خِلافی کرنا منافق کی نشانی ہے۔([2])آپ غور کر لیجیے! کیا یہ چیزیں ہمارے معاشرے میں موجود نہیں ہیں؟ گالیاں تَو لوگوں کی نَوکِ زبان پر رکھی ہوتی ہیں، ایسی ایسی گندی گالیاں دیتے ہیں کہ باحیا بندہ سُن ہی نہ سکے۔ امانت داریوں کا حال بھی ہمارے سامنے ہے، اور تَو کیا کہا جائے: مسجدوں میں جوتے مَحْفُوظ نہیں ہیں * مسجد کی ٹونٹیاں مَحْفُوظ نہیں ہیں * کوئی بیچارہ راہ گیروں کے لیے پانی کی ٹینکی گلی میں لگا دے تَو گلاس زنجیر کے ساتھ باندھنا پڑتا ہے۔ یہ تَو ہماری امانت داریوں کا حال ہے۔ یہ سب کچھ نِفَاق ہی تَو ہے۔ جیسے جیسے معاشرے میں موسیقی عام ہو رہی ہے، ویسے ویسے منافقت کی نشانیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہ ہے نام نہاد (جسے نادان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami