Share this link via
Personality Websites!
حدیثِ پاک میں ہے: رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اس اُمّت میں ایک قوم ہو گی، وہ رات کو کھائیں گے، پئیں گے، خُوب کھیل کُود کریں گے۔ صبح ہو گی تو بندر و خِنْزِیْر بن چکے ہوں گے، ان کے گھر زمین میں دھنسا دئیے جائیں گے۔ لوگ پُکار رہے ہوں گے: رات فُلاں کا گھر زمین میں دھنس گیا۔ دوسری طرف سے آواز آئے گی: فُلاں کا گھر بھی زمین میں دھنس گیا۔
*مزید فرمایا: اُن پر آسمان سے اسی طرح پتھر برسیں گے جیسے قومِ لُوط پر برسے تھے* ایسی ہی تباہ کر ڈالنے والی آندھی آئے گی، جیسی قومِ عاد پر آئی تھی۔
ان کے جُرْم کیا ہوں گے؟ فرمایا: * شراب پیتے ہوں گے *ریشم پہنتے ہوں گے* گانے والیاں (یعنی گانا بجانا) اِخْتیار کرتے ہوں گے* سُود کھاتے ہوں گے * اور رشتے داریاں توڑتے ہوں گے۔ ([1])
اللہ پاک کی پناہ...!! آہ! *شادِی کے فنکشنز میں *مہندی کی راتوں کو گھروں میں ناچ گانے کا اہتمام کرنے والے، ساری ساری رات اُونچی آواز میں گانے چلا کر پُورے محلے کا چین سکون برباد کرنے والے *کبھی ویلنٹائن ڈے کے نام پر *کبھی عِید کی چاند رات کو *کبھی کسی ادارے یا کمپنی وغیرہ کی گولڈن جُوبَلی تو کبھی سِلوَر جُوبَلی، کبھی ڈائمنڈ جوبَلی *کبھی بچے کی سالگرہ اور نہ جانے کن کن ناموں کے ساتھ پُوری پُوری رات کے فنکشنز رکھنے والے، ساری ساری رات میوزک بجانے، گانے سُننے سُنانے والے، ناچ رنگ کی محفلیں سجانے والے ذرا سچّے دِل سے غور کریں۔ یہ عبرتناک حدیثِ پاک اگر ہمارے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami