Share this link via
Personality Websites!
آہ! یہ زمانہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب T.V نیا نیا آیا تھا، محلے میں جس گھر میں ٹی وی ہوتا تھا،لوگ اپنے بچوں کو اس گھر میں جانے سے بھی روکتے تھے کہ وہاں بچے ٹی وی دیکھ کر خراب ہو جائیں گے۔ اب تَو بات ہی کہاں سے کہاں نکل گئی...! ٹِی، وِی۔ وِی سی آر، سِی ڈی۔ یہ سب تو پُرانی باتیں ہو گئیں۔اب تو ہر ایک کی جیب میں موبائِل ہے۔ گھر میں 5 اَفْرَاد ہیں تو سب کے پاس اپنا اپنا علیحدہ موبائِل ہے۔ کون کیا دیکھ رہا ہے، کسی کو خبر نہیں ہے *عام طور پر یہی حال ہے کہ سوشل میڈیا دیکھتے ہیں تو کہیں نہ کہیں میوزِک وغیرہ میں گرفتار ہو جاتے ہیں *خالِص مذہبی وِیْڈیو، بیان، نعت چلائیں تو ایڈ(Ads) آجاتی ہے، اس میں بدنگاہی اور میوزک کا سامان موجود ہوتا ہے *بلکہ میوزِک والی نعتیں بھی مارکیٹ میں موجود ہیں *ساری ساری رات محفل سجاتے ہیں، مِیلادِ مصطفےٰ کے نام پر محفل سجتی ہے، دُور دُور سے شخصیات بُلائی جاتی ہیں، اس میں میوزِک کے ساتھ نعتیں پڑھی جا رہی ہوتی ہیں۔
اے عاشقانِ رسول! سوچئے...!! یہ ہمیں ہو کیا گیا ہے...! ہم کس طرف کو چل پڑے ہیں۔ تَصَوُّر باندھیے...!! وہ لوگ جو پانچوں وقت کے پکّے نمازی بھی ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، اچھے اچھے سٹیٹس(Status) بھی لگاتے ہیں مگر رات کو جب تنہائی میں ہوتے ہیں، ہینڈ فری لگا کر موبائِل پر نہ جانے کیا کیا دیکھتے ہیں...!! سوچئے! یہ عبرتناک حدیثِ پاک اگر ہمارے ہی مُتَعَلِّق ہوئی...!! آہ! رات کو موبائِل پر گُنَاہوں بھری چیزیں دیکھتے دیکھتے سوئے، صبح کو بندر یا خِنْزِیْر بن چکے ہوئے تو کیا بنے گا...؟ آہ! آخرت کا عذاب تَو اپنی جگہ دُنیا ہی میں عزّت کا جنازہ نکل جائے گا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami