Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف (ترجمہ: میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی)
فرمانِ آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم :جس نے مجھ پر صبح و شام 10، 10باردرود شریف پڑھا اُسے قیامت کے دن میری شَفاعت ملے گی۔([1])
کہیں گے اور نبی اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ مرے حضور کے لَب پر اَنَا لَھَا ہو گا([2])
وضاحت:قیامت کے دن جب لوگ مختلف انبیائے کرام علیہم السَّلاَم کی خِدمت میں شَفاعت کا سوال لے کر حاضِر ہوں گےتو سارے نبی فرمائیں گے: اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِیْ یعنی میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ! لیکن جب لوگ بارگاہ رسالت میں حاضر ہوں گےتو پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم فرمائیں گے: اَنَا لَھَا، اَنَا لَھَا اس کام ( یعنی شفاعت )کے لیے میں ہی ہوں ، میں ہی ہوں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami