Share this link via
Personality Websites!
قرآن ِ کریم سیکھنے سکھانے کا سلسلہ ہوتا ہے، اسے مدرسۃُ المدینہ بالغان کہتے ہیں ۔
اللہ پاک فرماتا ہے :
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۱۲۱) (پارہ:1،البقرہ:121)
تَرْجمۂ کَنْزُ العِرْفَان : وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے تووہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا تلاوت کرنے کا حق ہے یہی لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کا انکار کریں تو وہی نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
* تفسیر جلالین میں ہے: حقِ تلاوت کا معنیٰ ہے :قرآن ایسے پڑھنا جیسے نازل ہوا ہے،مثلاً: قرآنِ کریم عربی میں اُترا ،تو اسے عربی لب ولہجے ہی میں پڑھنا ضروری ہے ۔ ([1])
فرمانِ آخری نبی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
جس نے قرآنِ کریم سیکھا ،دوسروں کو سکھایا اور اس پر عمل کیا ، قیامت کے دن قرآن اس کی شفاعت کرے گا اور جنّت میں لے جائے گا ۔([2])
قرآنِ کریم سیکھنے اور سکھانے کے متعلق احکام
(1): اتنی تجوید سیکھنا جس سے حروف صحیح مخارج سے ادا ہو سکیں اور غلط پڑھنے سے بچا جا سکے فرضِ عین (یعنی ہر ایک پر الگ الگ فرض)ہے۔([3]) (2):جس قدر قرآنِ کریم سیکھنا فرض ہے،اسی قدر قرآنِ کریم سکھانا فرضِ کفایہ ہے۔([4]) (3):جس سے حروف صحیح ادا نہیں ہوتے ،اس پر دُرُست ادائیگی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami