Share this link via
Personality Websites!
پىارے اسلامى بھائىو!ستّر(70) بار معاف کرنے کا ذکر کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم خود کو تَحَمُّل مزاج بنائیں۔ کتنی ہی بڑی غلطیاں واقع ہو جائیں، ہمیں تَحَمُّل مزاجی نہیں چھوڑنی چاہیے۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ کسی کی غلطی پر ایک آدھ بار تو صبر کر لیا جاتا ہے، لیکن اگر دوبارہ وہی غلطی سرزد ہو جائے تو بڑھا چڑھاکربدلہ چکا دیا جاتا ہےاور بعض نادان تو ذرا ذرا سی بات پرفوراً غصے میں آجاتے ہیں مثلاً*پسند کا کھانا نہ ملا *چھوٹے بچے نے کپڑوں پر پیشاب کر دیا *کسی نے غلطی سے ہمارے نمبر پرکال کر دی *ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے کسی نے ایمرجنسی کی وجہ سے ہارن بجا دیا *بغیر اِستری کے کپڑے مل گئے *مسجد کے وضوخانے پردورانِ وضو غلطی سے ساتھ والے کے چھینٹے کپڑوں پر پڑ گئے اور پھرایسے مواقع پر شیطان بھی وسوسے ڈالتا ہے کہ”معاف کرتے رہے تو پھر جی لیا تم نے“ ”اگر نرم دل بن گئے تو یہ دنیا تمہیں جینے نہیں دے گی“ ”آج کل درگزر سے کام نہیں لینا چاہیے“ ”معاف کرنے کا زمانہ نہیں ہے بھائی!“ ”معاف کرنے سے لوگ سر پر سوار ہونے لگتے ہیں“ وغیرہ وغیرہ۔ تو یاد رکھئے!ایسی باتوں پر ہر گز توجہ نہ دیجئے۔ تَحَمُّل مزاجی سے کام لیتے ہوئے دوسروں کو معافی اس لیے تھوڑی دینی چاہئے کہ اس سے دنیا سنور جائے بلکہ تَحَمُّل مزاجی اور عفوودرگزر تو آخرت کو بہتر بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کا معمول تھا کہ جتنا بھی بڑا نقصان ہو جاتا وہ تَحَمُّل مزاجی اور درگزر کا دامن نہ چھوڑتے۔
آئیے! ترغیب کےلیے بزرگوں کی تَحَمُّل مزاجی اور معاف کر دینے پر تین (3)حکایات سنتے ہیں، چنانچہ
(1)معاف کرنا قدرت کے بعد ہی ہوتا ہے!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami