Share this link via
Personality Websites!
جوڑو اور(3)جو تم پر ظُلْم کرے تم اُس کو مُعاف کردو۔ (معجم اوسط،۴/۱۸،حدیث :۵۰۶۴)
(2) ارشاد فرمایا:علم سیکھنے سے آتا ہے، تَحَمُّل مزاجی تکلیف برداشت کرنے سے پیدا ہوتی ہے اور جو بھلائی حاصل کرنے کی کوشش کرے اسے بھلائی دی جاتی ہے اور جو شرسے بچنا چاہتا ہے، اسے بچایاجاتا ہے۔ (تاریخِ مدینةدمشق،الرقم:۲۱۶۲،رجاء بن حیویہ،۱۸/ ۹۸)
(3)ارشادفرمایا:پانچ کام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکی سنّت ہیں،ان میں سے ایک تَحَمُّل مزاجی بھی ہے۔ (موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الحلم ،۲/ ۲۴،حدیث : ۶)
(4) ارشادفرمایا:بے شک انسان بُردباری کی وجہ سے روزہ دار اور شب بیدار کا درجہ پالیتا ہے۔ (موسوعة الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الحلم،۲/ ۲۷، حدیث : ۸ ملتقطاً)
(5)ایک شخص بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوااور عَرْض کی:یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم!ہم خادِم(Servant) کو کتنی بارمُعاف کریں؟آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش رہے۔اُس نے پھر وہی سُوال دُہرایا،آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پھر خاموش رہے،جب تیسری بارسُوال کیا تو اِرْشاد فرمایا: روزانہ ستّر(70) بار۔(ترمذی،کتاب البر ولصلۃ ،باب ما جاء فی العفو عن الخادم،۳/۳۸۱،حدیث:۱۹۵۶)
حکیمُ الاُمَّت حضرت مفتی اَحمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: عَرَبی میں سَتّر (70) (Seventy)کا لَفْظ بیانِ زِیادَتی(زیادہ تعداد بتانے) کے لیے ہوتا ہے، یعنی ہر دن اُسے بہت دفعہ مُعافی دو، یہ اُس صورت میں ہے کہ غلام سے خطاءً(انجانے میں)غَلَطی ہوجاتی ہو ،خباثتِ نَفْس(جان بوجھ کر/بری عادت کی وجہ سے) سے نہ ہو اور قُصور بھی مالِک کا ذاتی ہو،شریعت کا یاقومی و مُلکی قُصور نہ ہو کہ یہ قُصورمُعاف نہیں کیے جاتے ۔(مرآۃ المناجیح،۵/۱۷۰)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami