Share this link via
Personality Websites!
اگر بچوں کی امی سے کوئی غلطی ہو جائے تو اسے جی بھر کے طعنے دیئے جائیں اور ذلیل کیا جائے * خاندان کے کسی فرد کی غلطی کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر زندگی بھر کے لیے اس کا بائیکاٹ کر دیا جائے * ملازم اور ماتحت کی چھوٹی سی بُھول پر اسے جی بھر کے ذلیل کیا جائے۔ *بڑے مرتبے اور اونچے عہدے والا مسلمان دُوسروں کو حقیر جان کراپنے سے چھوٹوں کو چیونٹی برابرسمجھے۔ اَلْغَرَض! * مسلمان آپس میں لڑتے رہیں۔ اب ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں شیطان کی پیروی کرتے ہیں یا ربّ کریم کی پیروی کرتے ہیں۔شیطان یہ چاہتا ہے کہ مسلمان چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑنے مرنے لگیں جبکہ ربّ کریم نے یہی حکم فرمایا ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو معاف کریں تاکہ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمّد
پیارے اسلامی بھائیو!اس میں شک نہیں کہ کسی مسلمان سے غَلَطی (Mistake) ہوجانے پر تَحَمُّل مزاجی سے کام لیتے ہوئے اُسے معاف کرنا نفس پر بہت مشکل ہوجا تا ہے، لیکن اگر ہم تَحَمُّل مزاجی اور عَفْو و دَرگُزر کی فضیلتوں کو پیشِ نظر رکھیں گے تو تَحَمُّل مزاج بننا آسان ہو جائے گا۔
آئیے!تحمل مزاجی اور لوگوں کومعاف کرنے کا جذبہ پیدا کرنے کےلیے اس کی فضیلت پر 5احادیثِ مُبارَکہ سنتے ہیں:
تحمل مزاجی اور درگزر کرنے کی فضیلت
(1)پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نےارشاد فرمایا:تین باتیں جس شخص میں ہوں گیاللہ کریم (قِیامت کے دن)اُس کا حساب بَہُت آسان طریقے سے لے گا اور اُس کو اپنی رَحمت سے جنّت میں داخِل فرمائے گا۔صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عَرْض کی:یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کون سی باتیں ہیں؟فرمایا:(1)جو تمہیں مَحروم کرے تم اُسے عطا کرو،(2)جو تم سے تَعَلُّق توڑےتم اُس سے تَعَلُّق
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami