Share this link via
Personality Websites!
چنانچہ پارہ18سُورۂ نُورکی آیت نمبر22 میں اِرْشاد ہوتا ہے:
وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲) (پ ۱۸ ، النور:۲۲)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان :اور انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور دَرگزرکریں، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرمادے اوراللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
پىارے اسلامى بھائىو!معلوم ہوا !معاف کرنا اور درگزر کرنا اللہ پاک سے مغفرت پانے کا سبب ہے اور یہ عادت اللہ کریم کو بہت پسند ہے۔ اس میں شک نہیں کہ شیطان اِنسان کا اَزَلی دشمن(Enemy) ہے،جیسا کہ اللہ پاک قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْؕ-اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا(۵۳) (پ۱۵،بنی اسرائیل:۵۳)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان:بیشک شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈال دیتا ہے بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
*شیطان ہرگزیہ گوارا نہیں کرے گا کہ مسلمان آپس میں مُتَّحِد رہیں*ایک دوسرے کی خیر خواہی کریں* ایک دوسرے کی عزّت کے مُحافِظ بنیں *ایک دوسرے کی غَلَطیوں کو نظر انداز کریں* درگزر سے کام لیں* اپنے حقوق معاف کریں، * ایک دوسرے کے حقوق کا لحاظ رکھا کریں *ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں بلکہ *شیطان تو یہ چاہے گا کہ مسلمان آپس میں خوب لڑائی جھگڑے کریں* ایک دوسرے کی عزتوں پر کیچڑ اُچھالیں *بداخلاقی اور گندی باتیں کریں * ایک دُوسرے کو خوب گالیاں دیں * اگر کوئی کسی کو ایک تھپڑ مارے تو بدلے میں دوسرا دو تھپڑ رسید کرے * اگر کوئی کسی کو ایک گھونسا یا لات مارے تو بدلے میں دوسرا کئی گھونسے اور لاتیں مارے *
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami