Share this link via
Personality Websites!
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بىت!صحابیِ رسول حضرت امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی قوتِ برداشت سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں بھی بُردباری کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔تَحَمُّل مزاج بننا چاہیے۔ اپنے اندر نرمی اور معاف کرنے کی عادات پیدا کرنی چاہئیں۔دوسروں سے ہمیشہ اچھے سُلُوک سے پیش آنا چاہیے۔ دوسروں کو تحائف دینے کی عادت بنانی چاہیے۔ ایسی عادتوں سے جہاں آپس کے تعلّقات (Relations) مضبوط ہوں گے،آپس کی محبتوں میں اضافہ ہوگا ،وہیں معاشرے میں خوشگوار فضا بھی قائم ہوگی۔
پىارے اسلامى بھائىو! تَحَمُّل مزاجی کامعنیٰ ہے برداشت کرنا ،غصہ نہ کرنا،آپے سے باہر نہ ہو۔ جبکہ تحمل مزاجی کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ غصے کے وقت پُر سکون اورمطمئن رہنا۔(کتاب التعریفات،ص ۶۶، ماخوذاً)
یہ ایک ایسا بہترین عمل ہے جو خوش نصیب مسلمان یہ عمل کرتا ہے، اُس کا شُمار رَبِّ کریم کے پسندیدہ بندوں میں ہوتا ہے،چنانچہ
پارہ4سورۂ اٰلِ عِمران کی آیت نمبر134 میں اللہکریم کا فرمان ہے:
وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ(۱۳۴) (پ ۴،آل عمران : ۱۳۴)
تَرْجَمَۂ کنز العرفان :اور غُصَّہ پینے والے او ر لوگو ں سے دَرگُزر کرنے والے اوراللہ نیک لوگوں سے مَحَبَّت فرماتا ہے۔
جبکہ ایک اور آیتِ مبارکہ میں معاف کرنے اور صبر و برداشت کی تعلیم اس طرح دلائی گئی ہے،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami