Share this link via
Personality Websites!
فرمایا ہے اور آپ نے جو کچھ کیا وہی اسلام کا طریقہ ہے۔
حضرت وائل بن حُجْر رَضِیَ اللہُ عَنْہحضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے اس نرم رَوَیّے سے اس قدر متأثر ہوئے کہ آپ نے فرمایا:کاش میں نے انہیں اپنے آگے سوار کیا ہوتا۔([1])
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىارے اسلامى بھائىو!اس حکایت سے معلوم ہوا!ہمارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ تَحَمُّل مزاج(یعنی قُوّتِ برداشت اورنرم مزاج والے)ہوتے تھے۔*مَحَبَّت بھرا سُلوک فرمانے والے تھے۔* عاجزی و انکساری سے بھرپور تھے۔ * صبر و تحمل کے عادی ہوتے تھے ۔ * نرم دل اور مہربان ہوتے تھے۔ * دوسروں کے بغض و کینہ سے پاک ہوتے تھے۔ * بُرے سُلوک پربھی اچھا سلوک کیا کرتے تھے۔ * برائی کا بدلہ بھی اچھائی سے دیتے تھے۔ * بُردبار ہوتے تھے۔ * بدلہ لینے کی بجائے مُعاف کرنے والے ہوتے تھے۔ اے کاش ! ہم بھی ان کے طریقے پر چلنے والے بن جائیں اور تَحَمُّلمزاجی کو اپنی عادت بنا لیں۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
حضرت امیرِ مُعاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا حلم و بُردباری
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قوتِ برداشت میں اپنی مثال آپ تھے،چنانچہ
ایک شَخْص نے حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے سخت کلامی کی تو کسی نے کہا: اگر آپ چاہیں تو اسے سزا دے سکتے ہیں۔ فرمایا: مجھے اس بات سے حیا آتی ہے کہ میری رعایا کی کسی غلطی کی وجہ سے میری قوتِ برداشت کم ہوجائے۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami