Share this link via
Personality Websites!
حد شفقت فرمائی ،ان کے لیے اپنی چادر مبارک بچھا دی ،اپنے قریب بٹھایا،منبرِ اقدس پر ان کے لیے تعریفی کلمات ارشاد فرمائے ،بَرَکت کی دُعا فرمائی اور حضرت امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کوان کے رہنے کی جگہ تک لے جانے کا کام دیا۔ حضرت امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ اس وقت نوجوان تھے، آپ بھی مکے کے ایک سردار کے صاحبزادے تھے، لیکن پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی صحبت کی بَرَکت سے مزاج میں سرداروں والی بات نہ تھی۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا حکم ملتے ہی امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فوراً وائل بن حُجْر کےساتھ چل دیئے۔ وائل بن حُجْر اونٹنی پر سوار تھے جبکہ حضرت امیرِ معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے۔ چونکہ گرمی زیادہ تھی اس لیے کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد انہوں نے وائل بن حُجْر سے کہا: گرمی بہت زیادہ ہے،اب تو میرے پاؤں اندر سے بھی جلنے لگے ہیں۔آپ مجھے اپنے پیچھے سوار کرلیجیے۔
وائل بن حُجْر نے صاف انکار کردیا۔اس پر حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کہا: کم از کم اپنے جوتے ہی پہننے کے لیےدے دیجیےتاکہ میں گرمی سے بچ سکوں۔ وائل بن حُجْر نے کہا:تم ان لوگوں میں سے نہیں ہوجو بادشاہوں کا لباس پہن سکیں۔تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ میری اونٹنی کے سائے(Shadow) میں چلتے رہو۔یہ سُن کر حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے زبردست قوتِ برداشت کا مظاہرہ کیا اورزبان سے بھی کوئی جواب نہ دیا۔ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ پورے مُلک ِشام کے گورنر بن گئےتو حضرت وائل بن حُجْر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو دمشق بُلایا،جب یہ دمشق گئے تو حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ ان سے نہایت احترام سے پیش آئے اور ماضی کے اس واقعے کا بدلہ لینے کی بجائے حضرت وائل بن حُجْر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کواپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور فرمایا:میرا تخت بہتر ہے یا آپ کی اونٹنی کی کوہان؟ حضرت وائل بن حُجْر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے کہا:اے امیرُالمؤمنین!میں اس وقت نیا نیا مسلمان ہوا تھا اور جاہلیت کا رواج وہی تھا ،جو میں نے کیا۔اب اللہ پاک نے ہمیں اسلام سے سرفراز
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami