Share this link via
Personality Websites!
فرمانِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم:اَفْضَلُ الْعَمَلِ اَلنِّيَّۃُ الصَّادِقَۃُ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ([1]) اے عاشقانِ رسول! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے! *عِلْم حاصل کرنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * با اَدب بیٹھوں گا *دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا *اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا *جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىارے اسلامى بھائىو!آج ہم تَحَمُّل مزاجی(یعنی قُوّتِ برداشت) سے مُتَعلِّق بیان سُنیں گے۔ احادیثِ مبارکہ میں تَحَمُّل مزاجی اور معاف کرنے کے جو فضائل آئے ہیں، وہ بھی بیان کئے جائیں گے۔ اللہ والوں کی تَحَمُّل مزاجی کے بھی کچھ واقعات بیان کئے جائیں گے۔ تَحَمُّل مزاجی کا بنیادی تعلُّق غُصّہ دبانے سے ہے، لہٰذا غُصّہ پر قابو پانے کے بھی کچھ طریقے بیان کئے جائیں گے۔ آئیے! سب سے پہلے ایک حکایت سنتے ہیں:
پیارے آقا صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّمکی بارگا ہ میں اسلا م قبول کرنے کےلیے لوگ حاضر ہوا کرتے ۔ ایک دن یمنی بادشاہوں کی اولاد سے وائل بن حُجْر وفد کی صورت میں بارگاہِ رسالت میں اسلام قبول کرنے کے لئے حاضر ہوئے۔انہیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بتایا:رسولِ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے تین دن پہلے ہی تمہارے آنے کی خبر دے دی تھی۔نبیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ان پر بے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami