Share this link via
Personality Websites!
فرمائے۔ آمین
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!آئیے شیخِ طریقت ،امیرِ اہلسُنَّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے رسالے’’101 مدنی پھول‘‘ سے ناخُن کاٹنے کے چند مدنی پُھول سُنتے ہیں*جُمُعہ کے دن ناخُن کاٹنامُستَحَب ہے۔ ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جُمُعہ کا اِنتظار نہ کیجئے(دُرِّمُختار،۹/۶۶۸)صَدْرُ الشَّریعہ، بَدْرُ الطَّریقہ مَوْلاناامجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:منقول ہے:جو جُمُعہ کے روز ناخُن تَرَشوائے (کاٹے) اللہ پاک اُس کو دوسرے جُمُعہ تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور تین دن زائد یعنی دس دن تک۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو جُمُعہ کے دن ناخُن تَرَشْوائے (کاٹے) تو رَحمت آئیگی اور گناہ جائیں گے۔(دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتَار، ۹/۶۶۸۔ بہارِشريعت حصّہ۱۶ ص ۲۲۵،۲۲۶) * ہاتھوں کے ناخُن کاٹنے کے منقول طریقے کاخُلاصہ پیشِ خدمت ہے: پہلے سیدھے ہاتھ کی شَہادت کی اُنگلی سے شُرو ع کر کے ترتیب وار چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی) سَمیت ناخن کاٹے جائیں مگر انگوٹھا چھوڑدیجئے ۔اب اُلٹے ہاتھ کی چھنگلیا (یعنی چھوٹی انگلی ) سے شُروع کرکے تر تیب وار انگوٹھے سَمیت ناخُن کاٹ لیجئے۔اب آخِرمیں سیدھے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخُن کاٹا جائے۔ (دُرِّمُختار،۹/۶۷۰ ، اِحْیاءُ الْعُلُوم ،۱/۱۹۳ )
ناخن کاٹنےکی بقیہ سنتیں اور آداب حلقوں میں بیان کیے جائیں گے،لہٰذا ان کو جاننے کیلئے تربیتی حلقوں میں ضرور شرکت کیجئے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami