Share this link via
Personality Websites!
تَحَمُّل مزاج بننےکیلئے غُصّے سے بچئے!
پىارے اسلامى بھائىو! خلافِ مزاج بات ہونے پر آپے سے باہر نہ ہونا اور صبر کرنا بھی تَحَمُّل مزاجی میں شامل ہے۔آج کے دور میں تَحَمُّل مزاجی سے کام لینا یقیناً ہِمَّت کے کاموں میں سے ہے۔ کیونکہ ہمارے مزاجوں میں غُصّہ جڑ پکڑ چکا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناک بھوں چڑھانا، آپے سے باہر ہوجانا،فضول بَک بَک کرنا،گندی باتوں سے زبان کو آلودہ کرنا اور لڑنے مارنے پر کمر بستہ ہو جانا،یہ سب ہمارے ہاں عام ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ غُصّے پرقابو نہ کرنا بھی ہے۔
یاد رکھئے! غُصّہ ایک ایسی آگ ہے جو بجھنے پر آدمی کو جلی ہوئی عمارت کی طرح ویران اور بےکار چھوڑ جاتا ہے۔ بے جا غُصّہ ختم ہونے کے بعد افسوس اورشرمندگی انسان کو گھیر لیتے ہیں۔ تَحَمُّل مزاج بننے اور اس کی فضیلتیں پانے کےلیے غُصّے پرقابو (Control)رکھنا بڑا ضروری ہے۔بہت سی بُرائیوں کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ آخرت کے لیے بھی بہت تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ * انسان کو کئی گناہوں میں مُبْتَلا کر سکتا ہے۔* مار دھاڑ کی طرف اُبھارتا ہے۔*دوسروں کی عزّتوں کی پامالی کا سبب بنتا ہے۔*بے حیائی کی باتوں اور بُرا کلام کرنےپر اُبھارتا ہے۔*دوسروں کی نفرتوں کا سبب بناتا ہے۔*دوسروں کے حقوق کو ضائع کرنے کا سبب بنتا ہے۔*حق دار کو اس کا حق دینے سے روکتا ہے۔* انسان کے ظاہر اور باطن کے فرق کو واضح کردیتا ہے۔ * محبتوں کو ختم کردیتا ہے۔ * دُوریوں کو فروغ دیتا ہے۔* گہرے اور مضبوط رشتوں کو بھی بہا لے جاتا ہے۔* صِلۂ رحمی سے محروم کر دیتا ہے۔ * شفقت و مہربانی جیسی بہترین صفات سے دُور کردیتا ہے۔* کئی بُری چیزوں کی طرف لے جاتا ہے۔
یاد رکھئے! بہت زیادہ غصے میں مُبْتَلا ہو کر مضبوط چیزوں کو توڑ دینا، طاقتوروں کو پچھاڑ دینا اور دوسروں کو اپنے غصے سے ڈرادینا یہ بہادری نہیں بلکہ غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھنا بہادری ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami