Share this link via
Personality Websites!
ہاں!کیونکہ میں ربِّ کریم کا غلام(یعنی بندہ)ہوں۔جب اُس نے میرے سَر پر مارا تو میں نے اللہ پاک سے اُس کےلئے جنّت کا سُوال کیا۔عَرْض کی گئی:اُس نے آپ پر ظُلْم کیا تو آپ نے اُس کے لئے دعا کیوں مانگی؟ فرمایا:مجھے یہ معلوم تھا کہ تکلیف برداشت کرنے پر مجھے ثواب ملے گا،لہٰذا میں نے یہ مناسب نہ جانا کہ مجھے تو ثواب ملے اور وہ عذاب میں گرفتار ہوجائے۔(احیاء العلوم ،۳/۲۱۶ملخصاً)
حضرت امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہ کے ایک غلام کے ہاتھ سے آپ کے کپڑوں پر پانی گِرگیا،تو آپ نے اسے تیز نظر ں سے دیکھا ، غلام نے کہا:میرے آقا!وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ(اور غُصّہ پینے والے)۔ آپ نے فرمایا:میں نے اپنا غُصّہ پی لیا۔غلام نے پھرکہا: وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ(اورلوگوں سے در گزر کرنے والے)۔ آپ نے فرمایا: میں نے تجھے معاف کیا۔ غلام نے کہا:وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔(اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں )۔آپ نے فرمایا:جا!تُو اللہ پاک کی رِضا کے لئے آزاد ہے اور میرے مال میں سے ایک ہزار دِیناربھی تیرے ہیں۔ (بحر الدموع ، ص۲۰۲، آنسوؤں کا دریا ،ص۲۷۴ ملخصاً )
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پىارے اسلامى بھائىو!آپ نے سناکہ اللہ کےنیک بندوں کے اَخْلاق (Manners)کتنے عُمدہ ہوتے ہیں کہ اگر کوئی تکلیف دے ،تب بھی غُصّے میں آنا اوراس سے بدلہ لینا تو دور کی بات ہے یہ حضرات تو اس کے بدلے میں اسے طرح طرح سے نوازا کرتے ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم بھی عظیم ہستیوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے مسلمانوں سے اپنی ذات کے لئے بدلہ لینے کے بجائے انہیں مُعاف کرکے ثوابِ آخرت کے حق داربنیں۔
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami