Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ط
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نَـوَیْتُ سُنَّتَ الاعْتِکَاف (ترجَمہ:میں نے سنّتِ اعتکاف کی نیّت کی)
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!جب کبھی داخلِ مسجدہوں،یادآنےپر اِعْتِکافکی نِیَّت کرلیا کریں کہ جب تک مسجد میں رہیں گے اِعْتِکاف کا ثَواب مِلتا رہےگا۔یاد رکھئے!مسجد میں کھانے، پینے، سونےیاسَحَری،اِفطاری کرنے،یہاں تک کہ آبِ زَم زَم یادَم کیاہواپانی پینے کی بھی شَرعاً اِجازت نہیں،اَلبتَّہ اگر اِعْتِکاف کی نِیَّت ہوگی تو یہ سب چیزیں جائز ہوں گی۔اِعْتِکاف کی نِیَّت بھی صِرف کھانے، پینےیا سونےکےلئےنہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کامقصداللہکریم کی رِضا ہو۔”فتاویٰ شامی“میں ہے: اگرکوئی مسجد میں کھانا،پینا،سونا چاہےتو اِعْتِکاف کی نِیَّت کرلے،کچھ دیر ذِکْرُاللہ کرے،پھر جو چاہے کرے(یعنی اب چاہے تو کھا پی یا سوسکتا ہے)
سرکارِ ابدِ قرار،شفیعِ روزِ شمار،جنابِ اَحمدِ مختار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے ا رشادفرمایا:
حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَصَلُّوْا عَلَيَّ فَاِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِيْ
یعنی تم جہا ں بھی رہو مجھ پر دُرُو دِ پاک پڑھا کرو کیونکہ تمہا را دُرُود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔
(معجمِ کبیر،۸۲/۳،رقم:۲۷۲۹)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami