Share this link via
Personality Websites!
اللہ پاک کے نبی ہیں: حضرت موسیٰ علیہ السَّلام ۔ ایک مرتبہ آپ نے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کیا: اے مالِکِ کریم! میں تیرا عدل و انصاف دیکھنا چاہتاہوں۔ فرمایا: اے موسیٰ! آپ دیکھ نہیں پائیں گے۔ عرض کیا: مولیٰ! تُو دِکھانے پر قدرت رکھتا ہے۔ فرمایا: چلیے ! پِھر فُلاں جگہ دریا کے کِنَارے جائیے! اور چُھپ کر ہمارا عَدْل دیکھئے! حضرت موسیٰ علیہ السَّلام اُس جگہ پہنچ گئے، جَھاڑیوں وغیرہ کے پیچھے کہیں چُھپ کر بیٹھے اور اِنتظار کرنے لگے۔ اتنے میں وہاں ایک امیر شخص آیا، گھوڑے پر سُوار ہے، ہاتھ میں پیسوں سے بھرا ہوا بیگ ہے، وہ دریا کے پاس آ کر رُکا، اپنا پیسوں کا بیگ ایک طرف رکھا، دریا کے پانی سے ہاتھ مُنہ دھویا اور گھوڑے پر سُوار ہو کر روانہ ہو گیا۔ پیسوں کا بیگ جو اُس نے ایک طرف رکھا تھا، وہ اُٹھانا بُھول گیا۔ تھوڑی دَیْر گزری، ایک بچہ وہاں آیا، اُس نے بیگ دیکھا، اس کے اندر پیسے دیکھے تو بیگ اُٹھا کر گھر لے گیا۔
تھوڑی ہی دَیْر گزری تھی کہ ایک اندھا بوڑھا وہاں پہنچا، اُسے آنکھوں سے دِکھتا نہیں تھا، اُس نے دریا کے پانی سے مُنہ ہاتھ دھویا اور آرام کرنے کے لیے ایک جگہ لیٹ گیا۔ اتنے میں وہ امیر شخص جس کا بیگ تھا، جب اُسے احساس ہوا کہ میں بیگ تو دریا کنارے ہی بھول آیا ہوں تو وہ دوبارہ واپس پہنچا، یہاں صِرْف یہ اندھا بوڑھا ہی تھا، امیر شخص نے بوڑھے سے پوچھا: کیا تم نے یہاں میرا بیگ دیکھا ہے؟ بوڑھا بولا: میں تو اندھا ہوں، میں نے کوئی بیگ نہیں دیکھا۔ وہ امیر شخص غُصّے ہو گیا، بولا: تم جُھوٹ بولتے ہو، تم نے ہی بیگ اُٹھایا ہے، جلدی سے بتاؤ! بیگ کہاں ہے، ورنہ میں تمہیں قتل کر دُوں گا۔ بوڑھا منّت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami