Share this link via
Personality Websites!
باجے *غلط دیکھنا، غلط سننا، غلط بولنا عام ہوتا جا رہا ہے *اللہ معاف فرمائے! سگے رشتوں کی طرف سے جنسی تشدُّد کی خبریں آتی رہتی ہیں، اتنا کچھ ہو رہا ہے، اس کے باوُجُود کیا بستیوں والے ڈرتے نہیں ہیں؟ *کیا خوف نہیں آتا کہ رات کو سوئے ہوں تو عذاب آجائے *کیا اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہو گئے...؟ اور کیا فرمایا:
فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹) (پارہ:9، سورۂ اعراف:99)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں۔
معلوم ہوا؛ اللہ پاک کے عذاب سے، اس کی پکڑ سے، اس کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہو جانا نقصان اُٹھانے والوں، تباہ ہو جانے والوں کا طریقہ ہے۔
سدا خفیہ تدبیر سے ربّ کی ڈرنا سنو! آخرت کا اِسی میں بھلا ہے([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یقیناً اللہ پاک غالِب ہے، وہ اپنے بندوں پر مکمل قدرت اور اِخْتیار رکھتا ہے، ہم کسی وقت بھی اس کے قبضے سے باہَر نہیں نکل سکتے۔ اس لیے اس کی گرفت سے ہر وقت ہی ڈرتے رہنا چاہیے ۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ- (پارہ:5، سورۂ نساء:123)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: جو کوئی برائی کرے گا اُسے اُس کا بدلہ دیا جائے گا۔
یعنی جو بُرائی کرے گا، وہ اس کا بدلہ پائے گا چاہے دُنیا میں پائے، چاہے آخرت میں۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami