Share this link via
Personality Websites!
جائے، ہم سوچتے ہیں: وہ تو بہت بُری ڈرائیونگ کرتا تھا، مجھے کچھ نہیں ہو گا *خبر سُن لیں، فُلاں جگہ آسمانی بجلی گِری، اتنے افراد ہلاک ہو گئے، ہم سوچتے ہیں: مجھے کچھ نہیں ہو گا۔
ارے بھائی! مجھے کیوں کچھ نہیں ہو سکتا کیا ہم آسمان سے اُترے ہیں؟ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ قرآنِ کریم کی تین سبق آموز آیات سنیے! اللہ پاک فرماتا ہے:
اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآىٕمُوْنَؕ(۹۷) اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۸) اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ-فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹)
(پارہ:9، سورۂ اعراف:97-99)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سو رہے ہوں ۔ کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن کے وقت آجائے جب وہ کھیل میں پڑے ہوئے ہوں ۔کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں۔
اللہ اکبر! کتنے صاف اور واضِح لفظوں میں ہمیں جھنجھوڑا جا رہا ہے: کیا بستیوں والے بےخوف ہو گئے...!! *نمازیں قضا کرتے ہیں، پِھر بھی خوف نہیں آتا؟ *جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں، پِھر بھی خوف نہیں آتا؟ *ناپ تَول میں ڈنڈی ماری جاتی ہے، پِھر بھی خوف نہیں آتا؟ *دوسروں کے حقوق تلف کئے جاتے ہیں، پِھر بھی خوف نہیں آتا؟ *کمزوروں کو دبایا جاتا ہے، پِھر بھی خوف نہیں آتا؟ *غیبتیں کی جاتی ہیں، پِھر بھی خوف نہیں آتا؟ *قتل عام ہوتا جا رہا ہے*بدکاریاں عام ہوتی جا رہی ہیں *بدنگاہی *گانے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami