Share this link via
Personality Websites!
بھر نہیں ہنسوں گا اور جب تک دُنیا میں ہُوں فکرِ آخرت ہی میں مَصْرُوف رہوں گا۔([1])
بے وفا دنیا پہ مت کر اِعتِبار تُو اچانک موت کا ہوگا شکار
موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ! جان جا کر ہی رہے گی یاد رکھ!
موت آئی پہلواں بھی چل دیئے خوبصورت نوجواں بھی چل دیئے
پیارے اسلامی بھائیو!غور کا مقام ہے، واقعی ہم کتنے کمزور ہیں، اللہ پاک کا حکم ہر لمحہ ہم پر نافِذْ ہے، ہم کچھ بھی کر کے اس کی قُدْرت اور اِخْتیار سے باہَر نہیں ہو سکتے۔ بابا بلھے شاہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں:
مِٹّی دَا تُوْںْ، مِٹّی ہَوْنَا، کَاہَدِی بَلّے بَلّے
اَجْ مِٹِّی دَے اُتَّے بَنْدِیا، کَل مِٹِّی دے تَھلَّے
وضاحت: یعنی اے بندے! تُو مٹی سے بنا ہے، مٹی ہی ہو جانا ہے، پِھر کس بات کا غرور، کس بات کی بَلّے بَلّے...!! آج تُو مٹی کے اُوپَر ہے، کل مٹی کے نیچے چلا جائے گا...!! بس یہی تیری ابتدا اَور انتہا ہے۔
ہمارے ہاں ایک سوچ پائی جاتی ہے، ہمارے ذِہنوں میں کہیں نہ کہیں یہ بات عموماً موجود ہوتی ہے کہ مجھے کچھ نہیں ہوتا *ہمارے سامنے بیٹھے بیٹھے کسی کو ہارٹ اٹیک ہو جائے، ہم یہ سوچنے لگتے ہیں: اس کا تَو کولیسٹرول بڑھا ہوا تھا، مجھے کچھ نہیں ہو گا *میری فیملی ہسٹری میں ہارٹ اٹیک کا مسئلہ نہیں ہے، لہٰذا مجھے کچھ نہیں ہو گا *کسی کا ایکسیڈنٹ ہو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami