Share this link via
Personality Websites!
پابندی سے شرکت کرنے سے آئندہ شرکت کرنا ہمارے لیے آسان ہو جائے گا ۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! بیان کو اختتام کی طرف لاتے ہوئے سُنّت کی فضیلت اور چند آدابِ زندگی بیان کرنے کی سَعَادت حاصِل کرتا ہوں۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نےفرمایا: مَنْ اَحَبَّ سُنَّتِی فَقَدْ اَحَبَّنِی وَمَنْ اَحَبَّنِی كَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّةِ جس نے میری سُنّت سے محبّت کی اس نے مجھ سے محبّت کی اور جس نے مجھ سے محبّت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔([1])
سینہ تیری سُنّت کا مدینہ بنے آقا! جنت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا
اہلِ خانہ پر خرچ سُنَّتِ مصطفےٰ ہے
2 فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم : (1):روزِ قیامت میزانِ عمل پر سب سے پہلے بندے کا اپنے گھر والوں پر خرچ کیا ہوا مال رکھا جائے گا۔([2]) (2):جو ثواب کی نیت سے اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کر ے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔([3])
اے عاشقانِ رسول! اہلِ خانہ پر خرچ کرنا سُنّتِ مصطفےٰ ہے*پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنے گھر والوں پر خرچ فرمایا کرتےتھے *حدیثِ پاک کے مطابق ہجرت کے بعد ایک وقت وہ بھی آیا کہ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami