Share this link via
Personality Websites!
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجئے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ (پارہ:7، سورۂ انعام:61)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے ۔
قاہِر کا معنیٰ ہے: غلبہ رکھنے والا، اِخْتیار رکھنے والا۔ ([1])آیتِ کریمہ کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے تمام بندوں کے تمام کے تمام مُعَاملات پر مکمل قُدْرت اور اِخْتیار رکھتا ہے* وہ چاہے تو عطا فرمائے* چاہے تو اپنی عطائیں رَوْک دے* چاہے تو نفع پہنچائے* چاہے تو نقصان سے دوچارکرے* چاہے تَو عزّت بخشے* چاہے تو ذِلّت کے گڑھے میں گِرا ڈالے * وہی زندگی دیتا ہے* وہی موت سے ہمکنار کرتا ہے، اس کے فیصلے کو رَدّ کر دینا کسی کے بَس کی بات نہیں، سب اس کی قُدْرت اور اِخْتیار میں ہیں۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ بہت سمجھنے کی بات ہے، ہم انسان ہیں نا، ہم حقیقت میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami