Share this link via
Personality Websites!
بیٹھے تو جلدی سے معافی مانگ لیتا ہے اور جو عاجزی والا نہیں ہوتا، جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، وہ بات بات پر آستینیں چڑھانے کو دوڑتا ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السَّلام اللہ پاک کے نبی ہیں،آپ کا مشہور درباری پرندہ ہے: ہُدہُد۔ ایک بار ہُدہُد حضرت سلیمان علیہ السَّلام کی اجازت کے بغیر کہیں چلا گیا، ہُدہُد کی اس حرکت سے حضرت سلیمان علیہ السَّلام سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: ہُدہُد واپس آئے گا تو میں اسے سزا دُوں گا۔جب ہُدہُد واپس آیا اور دیکھا کہ حضرت سلیمان علیہ السَّلام جلال میں ہیں تو اس نے عاجزی کی،اپنے پروں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے حاضِر ہوا اَور موقع دیکھ کر، ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے قیامت کے دِن بارگاہِ اِلٰہی میں پیشی کا ذِکْر کر دیا، بَس قیامت کا ذِکْر سننا تھا، حضرت سلیمان علیہ السَّلام کانپ گئے اور آپ نے ہُدہُد کو مُعَاف کر دیا۔([1])
عاجزی وانکساری سے بلندی ملتی ہے
حدیثِ پاک میں ہے؛ آخری نبی، رسولِ ہاشمی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: مَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللہ جو بھی اللہ پاک کے لیے عاجزی اِختیار کرتا ہے اللہ پاک اسے بلندی عطا فرما دیتا ہے۔ ([2])
ایک حدیثِ پاک میں فرمایا: اَلتَّوَاضُعُ لَا یَزِیْدُ الْعَبْدَ اِلّا رِفْعَۃً فَتَوَاضَعُوْ ا یَرْفَعَکُمُ اللہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami