Share this link via
Personality Websites!
مشہور مُفَسِّر قرآن حضرت مفتی احمد یار خان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں:کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے ، کسی کی بے عزتی نہ کرے، کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں۔([1])
طَبَرانِی شریف میں ہے،رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ اٰذَی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہ (یعنی) جس نے (بِلاوجہِ شَرعی) کسی مسلمان کو اِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اُس نے اللہ پاک کو اِیذا دی۔([2])
خدایا! کسی کا نہ دل میں دکھاؤں اماں تیرے اَبَدی عذابوں سے پاؤں
پیارے اسلامی بھائیو! ایک بہت ہی خطرناک (Dangerous)باطنی بیماری ہے: قُوَّت کا نشہ۔ ہمیں اس بیماری کو اپنے اندر سے لازمی ختم کر لینا چاہیے کیونکہ ظُلْم عُمُوماً وہی کرتا ہے جسے قُوَّت و طاقت کا نشہ ہو۔
تاریخِ اُمَمْ کا یہ پیامِ ازلی ہے اے صاحبِ نظراں! نشۂ قُوَّت ہے خطرناک
جو اپنے اندر سے طاقت و قُوَّت کا یہ نشہ ختم کر لے،میں، میںنہ کرے، اپنے نَفْس کو قابُو میں کر لے یا یُوں کہہ لیجیے کہ اپنے اندر کے فِرْعَون کو مار لے حقیقت (Reality) میں وہ شخص ظُلْم سے بچ سکتا ہے۔مُعَاشَرے (Society)میں غَور کر لیجیے!جو عاجزی والا ہوتا ہے، وہ کبھی دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتا،اگر جانے انجانے میں کبھی کسی کو کچھ کہہ بھی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami