Share this link via
Personality Websites!
ایک مرتبہ رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اچھے بُروں کی خبر نہ دوں؟ایک شخص نے عرض کی:جی ہاں یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم !ہمیں ہمارے بُرے بَھلوں کی خبر دیجیے !فرمایا :تمہارا بھلا وہ شخص ہے جس سے خیرکی اُمید کی جائے اور اس کے شَر سے اَمْن ہو اور تمہارا بُرا وہ شخص ہے جس سے خیر کی اُمید نہ کی جائے اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔([1])
اس حدیثِ پاک کی شرح کا خُلاصہ ہے کہ وہ بندہ کہ لوگوں کے دِل اس کی طرف سے مطمئن ہوں، لوگ اس کے بارے میں یہ اعتماد رکھتے ہوں کہ یہ شخص کسی کو تکلیف نہیں دیتا بلکہ جہاں تک ہو سکے دوسروں کی خیر خواہی ہی کرتا ہے، ایسا شخص بہت اچھا ہے جبکہ وہ بندہ جس سے لوگ ڈرتے ہوں، اس سے بھلائی کی اُمِّید نہ رکھتے ہوں،اس کے شَر سے بچنے کی کوشش کرتے ہوں،ایسا شخص بہت بُرا آدمی ہے۔([2])
مسلمان کا خون ، مال اور عزت مسلمان پر حرام ہے
پیارے اسلامی بھائیو!ہمارا پیارا مذہب اسلام ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ۔آخری نبی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ یعنی ہر مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami