Share this link via
Personality Websites!
پاس گیااور اُسے اپنا سُوجَا ہوا زخمی ہاتھ دکھایا۔ اُس نے بتایا کہ اَنگوٹھا کاٹنا پڑے گا ورنہ بعد میں سارا ہاتھ کاٹنا پڑ سکتا ہے، چنانچہ میں نے اپنا انگوٹھا کٹوادیا۔ پھرایک دن میرے ہاتھ پہ چوٹ آئی تو پرانا زخم تازہ ہوگیا، مجھے شدید تکلیف ہورہی تھی، میں طبیب کے پاس گیا تو اُس نے ہاتھ کاٹنے کا کہا،میں نے کٹوا دیا مگر درد سارے بازو میں پھیل گیا۔ میں سخت تکلیف میں تھاکسی َپل چین نہ آتا تھا چُنانچہ پہلے کہنی تک پھر کندھے تک ہاتھ کٹوانا پڑا، کچھ لوگوں نے مجھ سے تکلیف شروع ہونے کا سبب پوچھا تو میں نے اُنہیں مچھلی والا واقعہ سُنایا، وہ کہنے لگے : اگر تم پہلے مرحلے میں مچھلی والے کے پاس جا کر اُس سے معافی مانگ لیتے اور اُس کو راضی کرلیتے تو شایدتمہیں یہ اَعضا کٹوانے نہ پڑتے،اَب بھی وقت ہے اُس شخص کے پاس جاؤ اور اُس کوراضی کرو، اس سے پہلے کہ یہ تکلیف پورے جسم میں پھیل جائے، میں نے بڑی مشکل سے اس مچھلی والے کو ڈھونڈنکالا اور معافی مانگنے کے لیے اُس کے پاؤں میں گِر گیا۔ اُس نے پریشا ن ہوکر پُوچھا :تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں وہی شخص ہوں جو تم سے مچھلی چھین کر لے گیاتھا، پھرمیں نے اُسے ساری تفصیل بتا کر کٹا ہواہاتھ دکھایا تو وہ بھی رَودِیا اور کہنے لگا: میرے بھائی ! میں نے تمہیں معاف کیا۔ میں نے اُسے گواہ بنا کر آیندہ کے لیے کسی پر ظلم کرنے سے تَوْبَہ کر لی۔([1])
ایک لکیر شام کی، کہتی ہے درمیاں کی بات
خلقِ خُدا کا ایک دِن، باقی ہیں سب خُدا کے دِن
وضاحت: یعنی ہر دِن کے بعد شام بھی آتی ہے، ہر عروج کو زوال بھی لگتا ہے، ہر طاقت کبھی نہ کبھی کمزور بھی ہو ہی جاتی ہے، اِس سے پتا چلتا ہے کہ مخلوق کا صِرْف ایک دِن ہے، یعنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami