Share this link via
Personality Websites!
شاہِ مَوْجُودات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اَلْبِرُّ لَایَبْلٰی نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی وَالذَّنْبُ لَایُنْسٰی گُناہ کبھی بُھلایا نہیں جاتا وَالدَّیَّانُ لَایَمُوْت اور بدلہ دینے والی ذات (یعنی اللہ پاک) کو کبھی مَوت نہیں آئے گی اِعْمَلْ مَاشِئْتَ جو چاہو کرو! کَمَا تَدِیْنُ تُدَانْ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ ([1])
گَنْدُم زِ گَنْدُم جَوْ زِ جَوْ اَزْ مَکَافَاتِ عَمَل غَافِل مَشَوْ
وضاحت: گندم بیج کر گندم ہی کاٹو گے، جَو بیج کر جَو ہی کاٹو گے، دُنیا میں مَکَافَاتِ عَمَل ہے یعنی یہاں Tit For Tat (جیسی کرنی وَیسی بَھرنی) والا قانون جاری ہے، اِس سے غفلت مَت کرو!
بَونے والے جو بَوئیں وہ کاٹیں یہ ہوا تو مَرْ مِٹا یاربّ!
آہ جو بَو چُکا ہوں وقتِ دِرَوْ(کٹائی کے وقت) ہو گا حَسْرَت کا سامنا یاربّ!
مجھے دونوں جہاں کے غم سے بچا شاد رکھ شاد دائما یا ربّ!([2])
امام ذَہبی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ لکھتے ہیں: کسی بزرگ نے ایک شخص کو دیکھا جس کا بازو کندھے سے کٹا ہوا تھا اور وہ آواز لگارہا تھا کہ جس نے مجھے دیکھا وہ ہرگز کسی پر ظلم نہ کرے۔ میں نے اُس سے ماجرا پُوچھا تو وہ کہنے لگا : میرا معاملہ بڑا عجیب وغریب ہے، میں بدمعاشوں کا ساتھی تھا،ایک دِنْ میں نے ایک مچھیرے سے مچھلی چھینی اور گھر کی طرف چل دیا، راستے میں مچھلی نے میرا اَنگوٹھا چَبَا ڈالا، جیسے تیسے میں گھر پہنچااور مچھلی کو ایک طرف ڈال دیا۔ انگوٹھے کے درد اور تکلیف کی وجہ سے میں ساری رات سو نہ سکا۔ صبح ہوئی میں طبیب کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami