Share this link via
Personality Websites!
حضرت سعید بن زید رَضِیَ اللہ عنہ نے جھگڑے میں پڑنے کی بجائے فرمایا: یہ زمین اسی بڑھیا کو دے دو۔ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو فرماتے سنا ہے:مَنْ اَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْاَرْضِ بِغَیْرِ حَقِّہٖ طُوِّقَہٗ فِیْ سَبْعِ اَرَضِیْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی جس شخص نے ایک بالشت زمین بھی ناحق لی قیامت کے دن اس کے گلے میں 7 زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔
اس کے بعدآپ نے دعا فرمائی:اَ للّٰہُمَّ اِنْ کَانَتْ کَاذِبَۃً فَأَعْمِ بَصَرَہَا وَاجْعَلْ قَبْرَہَا فِی دَارِہَایعنی یااللہ پاک! اگر یہ جھوٹی ہے تو اس کو اندھا کردے اور اسکی قبر اسی گھر میں بنادے۔راوی کہتے ہیں:میں نے دیکھا کہ وہ عورت اندھی ہوچکی تھی ،دیواروں کو ٹٹولتی پھرتی تھی اور کہتی تھی:مجھے سعید بن زید کی بددعا لگ گئی ہے،آخر کار ایک دن گھر میں چلتے ہوئے وہ کنویں میں گر کر مرگئی اور وہی کنواں اس کی قبر بن گیا۔([1])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! اللہ پاک غالِب ہے...!! اس کا اِخْتیار چلتا ہے۔ آج کل بھی لوگ زمینوں پر ناجائِز قبضے جماتے ہیں، بیچارہ غریب چھوٹا موٹا پلاٹ بنانے میں کامیاب ہو ہی جائے تو اسے قبضہ گروپ سے بچانا ایک الگ کام ہوتا ہے۔ اِحتیاطی تدابیر اپنانے کے باوجود اگر اس کی زمین پر قبضہ ہوجائے تو منت سماجت کرنے پر بھی قبضہ خوروں کو اس پر ترس نہیں آتا بلکہ اسی کی زمین اسے واپس کرنے کے لیے بھاری رقم طلب کی جاتی ہے، اگر وہ مظلوم شخص قبضہ چھڑانے کے لیے کورٹ کچہری کا دروازہ کھٹکھٹائے تو ایسے ایسے حربے اختیار کئے جاتے ہیں کہ زمین کا اصل مالک زمین میں جاسوتا ہے لیکن اسے زمین واپس نہیں ملتی ۔زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کو سنبھل جانا چاہیے کہ آج جس زمین پر قبضہ کرکے وہ خوش ہورہے ہیں اور مظلوم کی بددعائیں لے رہے ہیں کل
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami