Share this link via
Personality Websites!
سماجت کرنے لگا کہ بھائی! میں نے بیگ نہیں دیکھا، میں تو اندھا ہوں۔ اُس امیر شخص نے بوڑھے کی ایک نہ سُنی اور غُصّے میں آ کر اُس بوڑھے کو قتل کر دیا۔
یہ مَنْظَر دیکھ کر حضرت موسیٰ علیہ السَّلام بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیسا اِنْصاف ہے؟ بوڑھے شخص کا تو کوئی قصُور ہی نہیں تھا، وہ فضول میں ہی مارا گیا۔ اللہ پاک نے وحی بھیجی، فرمایا: اے موسیٰ علیہ السَّلام ! یہی ہمارا اِنْصاف ہے، مُعَامَلہ اَصْل میں یُوں ہے کہ وہ جو بچہ تھا، اُس کا والِد اِس امیر شخص کے ہاں مزدوری کرتا تھا، اُس نے کتنا عرصہ اُسے مزدُوری نہ دی، بیگ میں جو رقم تھی، اَصْل میں وہ مزدُوری ہی کے پیسے تھے، جو اُس امیر نے روک رکھے تھے۔ چنانچہ اُس مزدُور کی کمائی، بچے کے ذریعے اس کے گھر پہنچ گئی۔ جو بوڑھا تھا، اُس نے اپنی جوانی میں اِس امیر شخص کے والِد کو قتل کیا تھا، آج اُس قتل کے بدلے وہ خُود قتل ہو گیا۔ یُوں مزدُور کو اُس کی مزدُوری بھی مِل گئی اور قاتِل کو اُس کی سزا بھی مِل گئی۔([1])
اللہ اکبر!اللہ سب پر غالب ہے...!کوئی ظالم یہ نہ سمجھے کہ میں بچ جاؤں گا، کوئی زیادتی کرنے والا یہ ذہن نہ بنائے کہ میں پتلی گلی سے نکل جاؤں گا، کوئی طاقت والا یہ نہ سمجھے کہ میرا کوئی کیا بگاڑ لے گا...!!اللہ سب پر غالب ہے۔
مسلم شریف جو حدیثِ پاک کی بڑی مشہور کتاب ہے، اس میں روایت ہے، ایک بڑھیا تھی، اس نے صحابئ رسول حضرت سعید بن زَید رَضِیَ اللہ عنہ کی زمین پر قبضہ جمانے کے لیے جھگڑا کیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami