Share this link via
Personality Websites!
تَوْبَہ ہے؟ میں نے اس سے گُنَاہ کی تفصیل پوچھی، اس نے بتائی تو میں نے کہا: تُو ہلاک ہوئی اور دوسروں کو بھی ہلاکت میں ڈالا (اتنا بڑا گُنَاہ کرنے کے بعد بھی تَوْبَہ کی اُمِّید رکھتی ہے)، اللہ پاک کی قسم! تیرے لیے کوئی تَوْبَہ نہیں۔
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس خاتون نے جیسے ہی میری بات سُنی تو اس پر ندامت و شرمندگی کا غلبہ ہوا، وہ بہت زیادہ کانپنے لگی اور کانپتے کانپتے ہی بےہوش ہو کر گر گئی۔ میں اپنے راستے چلا گیا۔
پھر مجھے خیال آیا کہ اللہ پاک کے پیارے نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہمارے درمیان موجود ہیں، میں نے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے پوچھے بغیر ہی حکم سُنا دیا، چنانچہ صبح ہوئی تو میں بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں سارا ماجرا عرض کیا، نبئ رحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے میری بات سُنی تو فرمایا:اِنَّا للہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن، اے ابوہریرہ! تُو خُود بھی ہلاک ہوا اور اس عورت کو بھی ہلاکت میں ڈالا، کیا تمہیں اللہ پاک کا یہ فرمان یاد نہیں:
اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۷۰) (پارہ:19، سورۂ فُرقان: 70)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: مگر جو تَوْبَہ کرے اور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ نے جب آیتِ کریمہ اور پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ ذیشان سُنا تو آپ کو احساس ہوا کہ میں نے غلط مسئلہ بتا دیا ہے، آپ پر یہ احساس اتنا غالِب آیا کہ آپ مدینۂ مُنَوَّرہ کی گلیوں میں آواز لگانے لگے:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami