Share this link via
Personality Websites!
گُنَاہوں کا بَوجھ بھی ان کے سَر پڑے گا۔
بغیر عِلْم کے فتوے دینا گُنَاہ ہے
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَلْيَتَبَوَّاْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ
ترجمہ:جس نے قرآن کے متعلق بغیر عِلْم کے کچھ کہا، وہ اپنا ٹھکانا جہنّم میں بنا لے۔([1])
ایک روايت میں فرمایا:
اِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِمَامٌ مُضِلٌّ يُضِلُّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ
ترجمہ: بیشک روزِ قیامت سخت تَرِین عذاب اُس پیشوا کو ہو گا، جو اپنی جہالت کے سبب لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔([2])
یہاں یہ بھی عرض کر دُوں؛ اگر کسی کو کوئی غلط مسئلہ بتایا ہو، اب پتا چلا کہ یہ تَو میں نے گُنَاہ کر لیا ہے، اب اس سے صِرْف تَوْبَہ کر لینا کافِی نہیں ہے بلکہ شرعِی راہنمائی لے کر متعلقہ شخص تک درست مسئلہ پہنچانا بھی ضروری ہے۔
مشہور صحابئ رسول حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی اِقْتدا میں نمازِ عشا پڑھ کر واپس جا رہا تھا، میں نے دیکھا کہ ایک عورت اپنے آپ کو پُوری طرح ڈھانپے ہوئے راستے کے کنارے کھڑی ہے، اس نے مجھے پُکار کر کہا:اے ابوہریرہ! مجھ سے بہت بڑا گُنَاہ ہو گیا ہے، کیا میرے لیے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami