Share this link via
Personality Websites!
دے گا۔([1])
اللہ پاک ہمیں لڑائی جھگڑوں سے بھی بچائے، آپس میں اِلْزام تراشیوں سے بھی بچائے، جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہیاں دینے بھی محفوظ فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے فرمایا:
وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ- (پارہ:15، سورۂ بنی اسرائیل:36)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں۔
اس کا ایک معنیٰ یہ ہے کہ جب بات کا تمہارے پاس عِلْم نہیں ہے، اپنے پاس سے، اپنی اَٹکل سے اُس کا جواب نہ دو، خوامخواہ اپنی عقل کے گھوڑے مت دوڑاؤ...!!
پتا چلا؛ جو دِینی بات 100 فیصد یقین کے ساتھ مَعْلُوم ہو، وہ بتانے میں تَو حرج نہیں ہے، البتہ پتا نہ ہو تو پِھر خاموش ہی رہنا چاہیے۔
آج کل اس معاملے میں بھی ہمارے ہاں بڑی بےاحتیاطی پائی جاتی ہے *سیکھا کچھ ہوتا نہیں ہے، مفت کے مفتی بن بیٹھتے ہیں *قرآنِ پاک کی تفسیریں بیان ہو رہی ہوتی ہیں *حدیثوں کی شرح لوگ اپنے پاس سے کر ڈالتے ہیں *غلط سلط مسئلے بتا کر لوگوں کی نمازیں خراب کروا دیتے ہیں *روزے خراب کروا دیتے ہیں *ٹِی وی چینلز پر بیٹھ کر لیکچر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami